ابنا: تيرہويں ہرٹزليا کانفرنس نے جو صہيونيوں کي ايک اہم ترين سالانہ کانفرنس شمار ہوتي ہے اپنے اختتامي بيان ميں ايک رپورٹ پيش کرکے شيعہ اور سني مسلمانوں کے درميان اختلاف کو ہوا دينے کي ضرورت پر زور ديا –اس کانفرنس کي رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ اس کے لئے ضروري ہے کہ خليج فارس کے عرب ملکوں اور اسي طرح اردن مصر اور ترکي کے سني مسلمانوں کو اس کام کے لئے استعمال کيا جائے - اس کانفرنس ميں يہ بھي کہا گيا ہے کہ مذکورہ ملکوں کے سني مسلمانوں پر مشتمل ايک ايسا محاذ تشکيل ديا جائے جو اسرائيل اور امريکا کا حامي ہو اور شيعہ مسلمانوں کے مد مقابل ہو –ہرٹزليا کانفرنس ميں اسرائيل کے سياسي فوجي اور مذہبي ليڈروں سميت انتہا پسند صہيوني عناصر شرکت کرتے ہيں جس ميں اسرائيل کو درپيش اہم ترين اسٹريٹجک مسائل کا جائزہ ليا جاتا ہے اور آئندہ ايک سال کے لئے اسرائيلي حکومت کي ترجيحات کا تعين کيا جاتا ہے - اس کانفرنس ميں شام کے مسائل اور اس ملک ميں جاري بحران بھي خاص طور پر زير بحث آيا –...../169
4 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 406160
دوہزار تيرہ کي ہرٹزليا کانفرنس نے اپني سرگرميوں کے اختتام پر شيعہ اور سني مسلمانوں کے درميان اختلافات کو ہوا ديئے جانے کي ضرورت پر زور ديا ہے -